مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ کے حالیہ حملوں اور جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج نے بدھ کو علی الصبح اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2 کی شق 4 کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں واقع نگرانی اور مانیٹرنگ کے متعدد مراکز پر فوجی حملے کیے۔ یہ کارروائی جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق، جس میں فوجی کارروائیاں روکنے کا عہد کیا گیا تھا، کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف غیر قانونی حملوں کا تسلسل، امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کے تیل کی فروخت کی اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ، جس کا وعدہ مفاہمتی یادداشت کی شق 10 میں کیا گیا تھا، آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی، اور لبنان کے خلاف اسرائیلی فوجی حملوں اور دہشت گرد کارروائیوں کا جاری رہنا، جنگ بندی کے بنیادی نکات کو غیر موثر بنا چکا ہے۔ کشیدگی میں اس خطرناک اضافے کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
وزارت خارجہ نے خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع ہمسایہ ممالک سمیت تمام ریاستوں کو ان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ایسے کسی بھی اقدام میں تعاون، ایران کے خلاف جارحیت میں شراکت تصور کیا جائے گا۔
بیان میں امریکہ کے بار بار کے حملوں اور معاہدہ شکنی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
وزارت خارجہ نے تاکید کی کہ ایران کی مسلح افواج، اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت، ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع میں کسی بھی فوجی جارحیت کا بھرپور جواب دینے اور حملے کے منبع کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گی۔
آپ کا تبصرہ